تحویل دار
معنی
١ - خزانچی؛ روکڑیا۔ 'سلطان ذیشان نے فوراً تحویلدار سلطانی کو طلب کیا۔" ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣٤٤ ) ٢ - امین، محافظ، ذمہ دار۔ 'غلام قادر - کے بعد راقم کو اپنی سرکار کے کتب خانے وغیرہ کا تحویلدار بنا دیا تھا۔" ( ١٩٣٧ء، واقعات اظفری، ١٦٧ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق 'تحویل' کے ساتھ فارسی زبان سے مصدر 'داشتن' کے ساتھ 'دار' فعل امر بطور لاحقۂ فاعلی لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٧١٨ء کو'دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خزانچی؛ روکڑیا۔ 'سلطان ذیشان نے فوراً تحویلدار سلطانی کو طلب کیا۔" ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣٤٤ ) ٢ - امین، محافظ، ذمہ دار۔ 'غلام قادر - کے بعد راقم کو اپنی سرکار کے کتب خانے وغیرہ کا تحویلدار بنا دیا تھا۔" ( ١٩٣٧ء، واقعات اظفری، ١٦٧ )